ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مالدیپ: ’فوج اور پولیس سپریم کورٹ کی جانب سے صدر کے مواخذے کے حکم پر عمل درآمد نہ کرے‘

مالدیپ: ’فوج اور پولیس سپریم کورٹ کی جانب سے صدر کے مواخذے کے حکم پر عمل درآمد نہ کرے‘

Mon, 05 Feb 2018 11:57:28    S.O. News Service

مالے،4؍فروری(ایجنسی)مالدیپ میں حکومت نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر عبداللہ یامین کو گرفتار کرنے یا مواخذے کی کارروائی کے کسی حکم پر عمل درآمد نہ کریں۔سپریم کورٹ نے جمعے کو فیصلہ سنایا تھا کہ جلاوطن سابق صدر محمد ناشید کا ٹرائل غیر آئینی ہے اور نو ارکان پارلیمان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ان ارکان کی رہائی کی صورت میں پارلیمان میں حزب اختلاف کو دوبارہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

حکومت نے عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرنے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمان کو ہی معطل کر دیا تھا۔ملک کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ صدر کو گرفتار کرنے کی کوئی بھی کارروائی غیر قانونی ہو گی۔اٹارنی جنرل انیل نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں وزارتِ دفاع کے سربراہ جنرل شیام اور پولیس کمشنر عبداللہ نواز شریک تھے جن کے پیشرو کو یہ کہنے پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔اٹارنی جنرل کے مطابق انھیں لگتا ہے کہ سپریم کورٹ یہ فیصلے دینے کی کوشش کر سکتی ہے کہ صدر اقتدار میں مزید نہیں رہ سکتے ہیں۔’ہمیں معلومات ملی ہیں کہ یہ چیزیں رونما ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں سلامتی کا قومی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کا صدر کو گرفتار کرنے کا حکم غیر آئینی اور غیر قانونی ہو سکتا ہے۔ تو میں نے پولیس اور فوج نے سے کہا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی حکمنامے پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔‘

ٹی وی پر براہ راست دکھائی جانے والی تقریب میں فوج اور پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں کو حکومت کے دفاع میں اپنی جانیں دینے کا حلف اٹھاتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔اس تقریب کے بعد حزب اختلاف کے سینکڑوں کارکن دارالحکومت مالے میں احتجاج کے لیے جمع ہو گئے ہیں اور حراست میں لیے گئے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک کے آئین کا احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مالدیپ کی حزب اختلاف کی جماعت مالدیپیئن ڈیموکریمک پارٹی کے ایک ترجمان حامد عبدل غفور کا کہنا ہے کہ پولیس رشوت لینے کے الزام میں دو اعلیٰ ججوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔انھوں نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے اختیارات غصب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سابق صدر محمد ناشید اس وقت سری لنکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کو ماننے سے انکار بغاوت کے مترادف ہے۔

انھوں نے صدر یامین اور حکومت سے فوری مستفعی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں۔جمعے کو عدالت نے نو ارکان اسمبلی کی فوری رہائی اور سابق صدر سمیت حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں کا ازسر نو ٹرائل کا حکم دیا تھا۔عدالت کا کہنا تھا کہ سابق صدر کا ٹرائل غیر آئینی تھا تاہم حکومت نے عدلیہ کے حکمنامے پر سنیچر کو اپنے ردعمل میں پارلیمان کو غیر میعنہ مدت کے لیے بند کر دیا جبکہ حزب اختلاف کے دو ارکان کو وطن واپسی پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔خیال رہے کہ مالدیپ میں 2015 سے سیاسی بحران جاری ہے جب ملک کے پہلے جمہوری صدر محمد ناشید کو اس وقت ملک کے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت سزا سنائی گئی جب انھوں نے ایک جج کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔


Share: